کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مودی حکومت کے معیشت کے ناقص انتظام کے بوجھ تلے خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔ خوردہ مہنگائی 16 مہینوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔‘‘


i
کانگریس نے تیزی سے گھٹتی ہوئی بچت اور مہنگائی کے معاملے پر حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ بی جے پی دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کو خریدنے میں مصروف ہے، جبکہ عام آدمی کے لیے ضروری چیزیں خریدنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت کے معیشت کے ناقص انتظام کے بوجھ تلے عام خاندان برباد ہو رہے ہیں۔ ’ایکس‘ پوسٹ میں ملکارجن کھڑگے نے لکھا کہ ’’مہنگائی کی وجہ سے بچت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں، امیدیں ٹوٹی ہیں، عدم مساوات بڑھی ہے، دنیا میں ساکھ گری ہے اور نوجوانوں میں شدید غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘
اپنی پوسٹ میں کانگریس کے قومی صدر نے یہ بھی لکھا کہ ’’مودی حکومت کے معیشت کے ناقص انتظام کے بوجھ تلے خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔ خوردہ مہنگائی 16 مہینوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی 4.78 فیصد ہے، تھالی سے ٹماٹر غائب ہے۔ طبی مہنگائی 15 فیصد سے زیادہ ہے۔ روپیہ تیزی سے گر رہا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار ہم سے دور ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے نوکریاں نہیں ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’بی جے پی دوسری پارٹیوں سے سیاسی خرید و فروخت میں مصروف ہے، لیکن عام آدمی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے کے قابل نہیں رہا!‘‘
دوسری جانب آر بی آئی گورنر سنجے ملہوترا نے وارننگ دی ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کو مہنگائی کے ٹرینڈ پر نظر رکھنی ہوگی، خاص طور پر مئی میں ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں مہنگائی کے رجحان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں، مئی کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث آنے والے مہینوں میں ایندھن سے جڑی مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

