’ایک شہر کا حوصلہ پورے ملک کی آواز بنے گا‘، کانگریس کوٹا مہاریلی کی کامیابی کو وسعت دینے کے لیے پرعزم

راہل گاندھی نے کوٹا مہاریلی میں کہا کہ ’’پتہ ہے، صرف 5 امتحانات نیٹ، جے ای ای، ایس ایس سی، یو پی ایس سی اور آر آر بی کی تیاری پر طلبا حکومت ہند کے مکمل تعلیمی بجٹ کا تقریباً 3 گنا خرچ کرتے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>کوٹا مہاریلی میں راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div><div class="paragraphs"><p>کوٹا مہاریلی میں راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

i

user
google_preferred_badge

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے راجستھان کے کوٹہ میں 17 جون کو عظیم الشان مہاریلی کی، جس میں ہزاروں کی تعداد میں طلبا شریک ہوئے۔ کانگریس اب اس مہاریلی کی کامیابی کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے، کیونکہ ملک میں طلبا کے سامنے درپیش مسائل کا حل بہت ضروری ہے۔ پیپر لیک ہو یا امتحان میں بے ضابطگی کا معاملہ، یا پھر دیگر مسائل… راہل گاندھی کی قیادت میں ایک مہم شروع کی گئی ہے جن میں طلبا سے بات کر ان کے مسائل کا حل نکالنے کی سنجیدہ کوششیں ہوں گی۔ طلبا کی باتوں کو مرکزی حکومت کے سامنے بھی رکھا جائے گا تاکہ بہتر پیش رفت ہو سکے۔

اس دوران کانگریس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کوٹا مہاریلی کی چھوٹی چھوٹی ویڈیو کلپس جاری کر طلبا و نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کا کام کر رہی ہے۔ ’ایکس‘ پر جاری ایک ویڈیو میں راہل گاندھی کو طلبا کے درمیان دکھایا گیا ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’’یہ ملاقات کوئی سیاسی ملاقات نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کے تعلیمی نظام پر گفتگو کرنے سے متعلق ہے، ہندوستان کے تعلیمی نظام میں کیا غلط ہو رہا ہے، کس طرح کے اصلاح کی ضرورت ہے، اس بارے میں بات کرنے جمع ہوئے ہیں‘‘ اس ویڈیو میں ایک جین-زی اسٹیج پر پہنچ کر راہل گاندھی سے بے باک انداز میں نوجوانوں کی بھیڑ کے ساتھ سیلفی لینے کی گزارش بھی کرتا ہے، اور اس گزارش کو راہل گاندھی مسکرا کر پوری کرتے ہیں۔ پھر وہ نوجوان راہل گاندھی سے ہاتھ ملا کر اور ’ہائی فائیو‘ کرتے ہوئے واپس چلا جاتا ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’ایک شہر کا حوصلہ پورے ملک کی آواز بنے گا، ہر ایک نوجوان کا درد بدلاؤ کی شروعات بنے گا۔‘‘

ایک دیگر سوشل میڈیا پوسٹ میں کیپشن لگایا گیا ہے ’’ہم ایک ایسا ہندوستان چاہتے ہیں، جہاں نوجوانوں کے خواب پورے ہوں۔‘‘ اس پوسٹ کے ساتھ جو ویڈیو ہے، اس میں راہل گاندھی نیٹ پیپر لیک سے پریشان ایک طالبہ کی خودکشی کا ذکر کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ آکانکشا کی چٹھی ہے، جو اس نے اپنے والدین کو لکھی ہے۔ آکانکشا آج ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ آکانکشا نے خودکشی کی۔‘‘ وہ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’آپ اس چٹھی کو اچھی طرح پڑھیے۔ یہ آکانکشا ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ ان کے والد سے میری بات ہوئی، وہ پیرالائز ہیں، قرض لیا۔ پھر آکانکشا کا نیٹ پیپر لیک ہوا اور آکانکشا کہتی ہے ’سوری ممی پاپا، میں نے سب برباد کر دیا‘۔ سچائی یہ ہے کہ یہ آکانکشا کی غلطی نہیں تھی، آکانکشا کے والدین کی غلطی نہیں تھی۔ یہ تعلیمی نظام کی غلطی تھی۔‘‘ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ہندوستان کا ایجوکیشن سسٹم اپنے بچوں پر دباؤ بناتا ہے، ٹینشن دیتا ہے، دباتا ہے، کچلتا ہے، اور یہ ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم سب ایک ساتھ مل کر یہ یقینی بنائیں کہ یہاں بھیڑ میں موجود کوئی نوجوان، اس ملک کا کوئی نوجوان اُس احساس کا تجربہ نہ کرے جیسا کہ آکانکشا نے کیا۔‘‘

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کوٹا مہاریلی کے بعد گزشتہ شب اپنے ’ایکس‘ ہینڈل سے بھی ایک پوسٹ جاری کی تھی، جس میں کچھ اہم باتیں سامنے رکھی تھیں۔ انھوں نے اس پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’پتہ ہے، ہندوستان کے صرف 5 امتحانات نیٹ، جے ای ای، ایس ایس سی، یو پی ایس سی اور آر آر بی کی تیاری پر طلبا اور ان کے اہل خانہ ہر سال کتنا خرچ کرتے ہیں؟ 3.5 لاکھ کروڑ روپے۔ یعنی ہندوستانی حکومت کے پورے تعلیمی بجٹ کا تقریباً 3 گنا۔ تعلیم، صحت، محبت، سائنس اور ترقیٔ خواتین و اطفال… ان پانچوں وزارتوں کے مجموعی بجٹ کے برابر۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’اس کے بدلے میں کروڑوں نوجوانوں کو کیا ملتا ہے؟ تناؤ، غیر یقینی، بے روزگاری اور ٹوٹتے خواب۔ جو خرچ حکومت کی ذمہ داری ہے، اس کا بوجھ آج فیملی اٹھا رہی ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *