جج نے کہا کہ ’میں مانتا ہوں دستخطوں میں مبینہ تضادات کے حوالے سے ان کے دعوے متنازع ہیں لیکن صحیح یا غلط، اسپیکر کو 9 مئی کو ایک تجویز موصول ہوئی تھی اور پھر 20 مئی کو پارٹی کی میٹنگ کی تجویز (ریزولیوشن) کی کاپی بھی حاصل ہوئی۔ پھر وہ خاموش کیوں رہے؟ مان لیا کہ تنازع تھا لیکن یہ تنازع تو 27 مئی کو سامنے آیا۔ ایسے حالات میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کس تجویز کی بنیاد پر کی گئی؟ عدالت کا یہ تبصرہ اسمبلی اسپیکر کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے عمل اور ان کے فیصلہ لینے کے اختیارات پر اٹھے سوالات کے سلسلے میں سامنے آیا ہے۔
