امریکا کا آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ٹیرف عائد کرنے پر غور، پولیٹیکو کا دعوی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی پالیسی ساز ادارے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کو دوبارہ منظم کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

نشریاتی ادارے پولیٹیکو نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ امریکی حکومت ایسے اقدامات زیر غور لا رہی ہے جن کے ذریعے موجودہ سفارتی صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں جہازران کمپنیوں اور انشورنس اداروں کو آبنائے ہرمز کے راستے دوبارہ استعمال پر آمادہ کیا جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ایسے جہازوں کو خصوصی وی آئی پی اجازت نامہ دیا جائے جو امریکی بحری اسکواڈ کی حفاظت میں آبنائے ہرمز سے گزریں، تاہم اس سہولت کے بدلے ان جہازوں سے اضافی فیس یا ٹیرف وصول کیا جائے۔

پولیٹیکو کے مطابق یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان تجاویز پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی کپلر کے مطابق تقریبا 500 جہاز، جن میں 220 آئل ٹینکرز شامل ہیں، اس وقت آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر موجود ہیں اور محفوظ گزرگاہ کے انتظار میں ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی اقدامات کے بعد خطے میں کشیدگی کے تناظر میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے مؤقف کو دہرایا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *