
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی قوم نے شہید رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے یہ سبق سیکھا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں دشمن کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرے گی۔
صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ شہید رہبر انقلاب ہمیشہ قوم کو اپنی عزت و وقار کو مقدم رکھنے اور دشمنوں کے غیرمنصفانہ مطالبات کے سامنے نہ جھکنے کی تلقین کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران نے ملک کے خلاف حالیہ بلااشتعال امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ حالات کی تیاری کر رکھی ہے، جبکہ کشیدگی کے خاتمے کی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
صدر پزشکیان نے ایران اور امریکا کے درمیان جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مفاہمت جنگ روکنے اور مذاکرات کے آغاز کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے کی شکل سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران جاری سفارتی عمل کے باوجود تمام ممکنہ آپشنز کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے عمل کے مکمل ہونے کے بعد ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔
صدر پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کسی بھی نتیجے پر پہنچیں، حکومت کی اولین ترجیح عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی ہے۔
