
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوری ایران کی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن نے کوئی بھی غلطی کی تو اسے ایرانی قوم کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، جو اس کے لیے حالات کو انتہائی دشوار بنا دے گا۔
تفصیلات کے مطابق، میجر جنرل حاتمی نے یونیورسٹی آف امام علیؑ میں نشانِ فداکاری کی چھٹی سالگرہ اور جنگِ رمضان کے شہداء کے اہل خانہ کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہید آیت اللہ رئیسی اور دیگر شہدائے خدمت کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگوں میں ہمیشہ طاقت اور استقامت کے ساتھ اپنے ملک کا دفاع کیا، جبکہ دشمن کے اسٹریٹجک اہداف، جن میں ایران کو جھکانا، اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ اور خطے کا نقشہ تبدیل کرنا شامل تھا، مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔
آرمی چیف نے کہا کہ دشمن کو جنگ رمضان میں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔ آج ایران عالمی سطح پر پہلے سے زیادہ مضبوط اور اس کی سرحدیں پہلے سے زیادہ مستحکم ہیں۔
میجر جنرل حاتمی نے دعوی کیا کہ ایران کی بحری، بری اور فضائی افواج نے مکمل تیاری اور طاقت کا مظاہرہ کیا، جبکہ دشمن ایران کے ساحلوں کے قریب آنے کی ہمت بھی نہ کر سکا۔ فضائی دفاعی نظام آخری لمحے تک فعال رہا اور دشمن کے ڈرونز کو مار گرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کی ایک بڑی غلطی ایرانی عوام کے بارے میں غلط اندازہ لگانا تھا، کیونکہ ایرانی قوم نے اپنی یکجہتی اور استقامت سے ثابت کیا کہ وہ اپنے اصولوں اور عقائد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر میجر جنرل حاتمی نے زور دیا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیت اور ڈیٹرنس قوت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہیں۔ دشمن کی معمولی سی بھی غلطی اسے ایرانی قوم کے شدید غصے اور سخت ردعمل سے دوچار کر دے گی۔
