مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مفاہمت اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے آخری دھچکا ثابت ہوسکتی ہے اور یہ پیش رفت مستقبل میں ان کے اقتدار سے الگ ہونے کی راہ ہموار کرے گی۔
ہیلری کلنٹن نے کہا کہ نیتن یاہو یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ ان کے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ ان کی سیاسی حیثیت مختلف محاذوں پر دباؤ اور چیلنجز کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو جنگی ماحول پیدا کرکے اپنے اندرونی مخالفین کو قابو میں رکھنا چاہتے ہیں، تاہم ان کے نزدیک ایران کے ساتھ مفاہمت وہ فیصلہ کن پیش رفت ہے جو بالآخر نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔
ہیلری کلنٹن نے 2009 میں نیتن یاہو کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور ایران کو مکمل طور پر علاقائی منظرنامے سے باہر کرنے کے طریقوں پر گفتگو کی گئی تھی۔
