وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ اعتماد کی کمی ہے،انہوں نے بحری جہازوں کی حفاظت کا مسئلہ بھی ٹرمپ کے سامنےاٹھایا

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پچھلی صدی میں انسانیت نے دو عالمی جنگیں جھیلیں۔ بہت سی قربانیوں کے بعد عالمی برادری نے امن، استحکام اور خوشحالی کی طرف بڑھنے کے لیے نظام وضع کیا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div>

i

user
google_preferred_badge

وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو فرانس کے شہر ایوین میں جی-7 چوٹی کانفرنس میں شرکت کی۔ سمٹ کے آؤٹ ریچ سیشن کے دوران، وزیر اعظم  مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے دیکھا گیا۔ یہ ملاقات 16 مہینوں میں پہلی بار دونوں رہنماوں کی ہوئی تھی۔ تاہم وزیر اعظم مودی نے اس پلیٹ فارم سے ٹرمپ کو آئینہ بھی دکھا یا۔

G-7 چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم  مودی نے کہا کہ آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اور ایک دوسرے پر منحصر ہے۔ کسی ملک کی انرجی سیکیورٹی، فوڈ سیکیورٹی، ہیلتھ سیکیورٹی، سائبر سیکیورٹی، اور معاشی خوشحالی کا تعین صرف اس کی سرحدوں سے نہیں ہوتا ہے۔ نقل و حرکت، ڈیٹا، سرمایہ اور ٹیکنالوجی سبھی ہمیں جوڑتے ہیں۔ ایسے وقتوں میں، شراکت داری کی اہمیت قدرتی طور پر بڑھ جاتی ہے، لیکن شراکت داری صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے جب ان کی بنیاد پر اعتماد ہو۔ آج، سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثہ معدنیات، ٹیکنالوجی، یا بازار نہیں بلکہ باہمی اعتماد ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ انسانیت کو پچھلی صدی میں دو عالمی جنگیں برداشت کرنی پڑیں۔ بے شمار قربانیوں کے بعد عالمی برادری نے امن، استحکام اور خوشحالی کی طرف بڑھنے کے لیے نظام وضع کیا۔ ان نظاموں کی بنیاد بھی اعتماد پر رکھی گئی تھی، لیکن کئی نسلوں کے تعاون سے کئی دہائیوں پر مشتمل اعتماد کو آج نقصان پہنچ رہا ہے۔ کووڈ 19نے ہمیں دکھایا ہے کہ اعتماد اور یکجہتی کے دعوے کتنے کھوکھلے تھے۔ آج دنیا کو وسائل کی کمی نہیں بلکہ اعتماد کی کمی کا سامنا ہے اور ہماری شراکت داری کا مستقبل اسی اعتماد پر منحصر ہے۔

وزیر اعظم مودی نے آبنائے ہرمز میں اور اس کے آس پاس ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکتوں پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا، “ہم مغربی ایشیا میں امن کی کوششوں میں ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔” اس تنازعہ نے مغربی ایشیا میں ہمارے دوست ممالک کے لیے جان و مال کا نقصان کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں سمندری تجارت میں خلل نے عالمی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ کئی ہندوستانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ عالمی سمندری تجارت کے ذریعے تمام ممالک کو جوڑنے والے بحری جہازوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سمندری راستے محفوظ رہیں اور ملاح بغیر کسی خوف کے اپنا کام کر سکیں۔ وزیر اعظم  مودی نے کہا کہ اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے کہا تھا کہ ’’بھروسہ کرو لیکن تصدیق کرو‘‘۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان بحران کے وقت تمام ممالک کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔کووڈ19 وبائی مرض کے دوران، ہندوستان نے 150 سے زیادہ ممالک کو ادویات اور ویکسین فراہم کیں۔ سری لنکا کا طوفان ہو، افغانستان کا زلزلہ ہو، موزمبیق میں سیلاب ہو یا کیوبا اور جمیکا کا سمندری طوفان ہو، ہندوستان نے ہمیشہ انسانیت کو سب سے پہلے کے اصول پر کام کیا ہے۔ ہماری ترقیاتی شراکتیں بھی اسی جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہماری کوششوں نے شراکت دار ممالک میں صلاحیت کی تعمیر اور مہارتوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ٹرمپ بدھ کو دو طرفہ بات چیت کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں تجارتی معاہدوں پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ غور طلب ہے کہ ہندوستان 13ویں بار جی -7 پارٹنر ملک کے طور پر چوٹی کانفرنس میں حصہ لے رہا ہے۔ اس عالمی فورم میں وزیر اعظم مودی کی ساتویں بار شرکت ہے۔ G-7 سربراہی اجلاس سات ترقی یافتہ ممالک کا ایک گروپ ہے جو ایک طے شدہ ایجنڈے کی بنیاد پر سالانہ بات چیت کرتا ہے۔ اس سال، فرانس سربراہی اجلاس کی صدارت کر رہا ہے، جس کی صدارت ہر رکن ملک باری باری کرتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *