
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی بری فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے امام علی آفیسرز یونیورسٹی کو نشان ایثار عطا کیے جانے کی چھٹی سالگرہ اور جنگ رمضان کے شہداء کے اہل خانہ کی تکریم کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج نے 12 روزہ جنگ اور جنگ رمضان کے دوران دشمن کو شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران ایرانی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب کی بری اور بحری افواج کو جنوبی ساحلی علاقوں میں تعینات کیا گیا تاکہ دشمن کی جارحیت کے خلاف ملک کا دفاع یقینی بنایا جا سکے۔
امیر حاتمی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جارحیت کے دوران دشمن ایرانی ساحلوں اور سمندری حدود کے قریب آنے کی ہمت بھی نہ کر سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ اور اس سے قبل مسلط کی گئی جنگ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کی مسلح افواج نے پوری قوت اور استقامت کے ساتھ ملک کا دفاع کیا۔
ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف دو جنگیں مسلط کیں، جن میں پہلی 13 جون 2025ء اور دوسری 28 فروری 2026ء کو شروع ہوئی، لیکن دونوں مواقع پر ایرانی مسلح افواج نے پوری طاقت سے وطن کا دفاع کیا۔
ایرانی بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ دشمن نے اپنے اسٹریٹجک اہداف میں کھلے عام اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرے گا، اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی طاقت کو تباہ کرے گا اور حتی کہ ایران کا جغرافیہ تبدیل کر دے گا، مگر آج ان کے ان تمام مذموم مقاصد میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہو سکا۔
انہوں نے 12 روزہ جنگ اور جنگ رمضان میں دشمن کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہی دنوں میں دشمن جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہوا، جبکہ آج اسلامی جمہوریہ ایران عالمی سطح پر پہلے سے زیادہ مضبوط اور باوقار حیثیت رکھتا ہے اور ملک کی سرحدیں ماضی کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور مستحکم ہیں۔
