مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فورا بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا، عراقچی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فورا بعد مذاکرات کا پہلا دور شروع ہوگا۔

عباس عراقچی نے پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کے بعد بتایا کہ امکان ہے کہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے وفود کے سربراہان کی ملاقات ہوگی، جہاں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے، جس کے بعد باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ورچوئل طور پر طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت سے ایران کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے، تاہم ملک اپنی تمام ضروریات کے لیے ان فوائد پر انحصار نہیں کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، مذاکرات کے دوران امریکی پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم امور پر 60 روز کے اندر بات چیت کی جائے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات میں بداعتمادی اور احتیاط کا رویہ اختیار کرے گا کیونکہ ماضی میں واشنگٹن متعدد بار وعدہ خلافی اور معاہدوں سے انحراف کرچکا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اتوار کی شب طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں دونوں ممالک کے لیے مختلف ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں، جن میں سے بعض پر پیر سے عمل درآمد شروع ہو جائے گا جبکہ باقی نکات پر جمعہ کو حتمی دستخط کے بعد عمل کیا جائے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *