پنٹاگن نے 8 جون کو وہ فہرست اپڈیٹ کیا ہے جس میں چینی فوج سے منسلک کمپنیوں کے نام درج کیے جاتے ہیں۔ یہ فہرست پہلی بار 2021 میں تیار کی گئی تھی۔


i
امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں ایک نہایت اہم اور بڑا موڑ آ گیا ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگن) نے چین کی مشہور اور بڑی کمپنیوں، ای کامرس کی ’علی بابا‘، الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی ’بی وائی ڈی‘ اور سرچ انجن کمپنی ’بائیڈو‘ کو اپنی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ بڑی کمپنیاں دراصل چینی فوج کی طاقت بڑھانے کا کام کر رہی ہیں۔
پینٹاگن نے پیر کے روز اپنی اس فہرست کو اپڈیٹ کیا ہے جس میں چینی فوج سے وابستہ کمپنیوں کے نام درج کیے جاتے ہیں۔ یہ فہرست پہلی بار 2021 میں تیار کی گئی تھی۔ تازہاپ ڈیٹ کے بعد اس فہرست میں اب 188 کمپنیوں کے نام شامل ہو چکے ہیں، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 134 تھی۔ امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ علی بابا اور بائیڈو جیسی کمپنیاں چین کی ’ملٹری-سول فیوژن‘ حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ پینٹاگن کے مطابق ان کمپنیوں کے براہ راست روابط چین کے سرکاری اثاثہ جاتی نگرانی کمیشن اور وزارت صنعت و اطلاعاتی ٹیکنالوجی سے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد رواں ماہ کے اختتام سے یہ تمام بلیک لسٹیڈ کمپنیاں امریکہ کے کسی بھی دفاعی معاہدے کا حصہ نہیں بن سکیں گی۔
امریکہ کے اس فیصلے پر چین کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانہ نے اسے مکمل طور پر امتیازی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ قومی سلامتی کے نام پر اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے۔ دوسری جانب علی بابا نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے واضح کیا کہ وہ کسی فوجی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے، اور اس گمراہ کن اقدام کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ بائیڈو نے بھی خود کو فوجی کمپنی قرار دیے جانے کو مکمل طور پر بے بنیاد بتایا ہے۔ تاہم الیکٹرک گاڑیوں کی بڑی کمپنی بی وائی ڈی کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس فیصلے کے اثرات صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں رہیں گے۔ ریپبلکن رکن کانگریس جان مولینار نے یہاں تک مطالبہ کر دیا ہے کہ امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں درج ان چینی کمپنیوں کو فوری طور پر ڈی لسٹ کر دیا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکی کمپنیوں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ان فرموں کے ساتھ فوراً کاروباری تعلقات ختم کر دینے چاہئیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بین الاقوامی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر ہلچل پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق اہلکار اور قومی سلامتی کے ماہر ڈینس وائلڈر کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی وسیع پابندیاں شاید عملی سطح پر مکمل طور پر مؤثر ثابت نہ ہوں۔ کئی امریکی کمپنیوں کے ان چینی برانڈز کے ساتھ گہرے کاروباری تعلقات ہیں، جنہیں وہ آسانی سے ختم کرنا نہیں چاہیں گی۔
یہ پوری سفارتی اور تجارتی کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی لیڈر شی جنپنگ کی بیجنگ میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس 2 روزہ سربراہی اجلاس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصہ سے جاری تجارتی جنگ کو کم کرنا تھا۔ لیکن اب علی بابا، بائیڈو اور بی وائی ڈی کے علاوہ روبوسینس ٹیکنالوجی اور یونٹری روبوٹکس جیسی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر کے امریکہ نے اپنے عزائم واضح کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال وی چیٹ کی مالک کمپنی ٹین سینٹ کو بھی امریکہ نے اسی طرح بلیک لسٹ کر دیا تھا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

