امریکہ میں ان دنوں ہندوستانی آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ ایک ثقافتی تجربہ بن چکے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں کیسر، الفانسو، لنگڑا اور دسہری جیسے آموں کی مانگ اس قدر بڑھ گئی ہے کہ بڑے ریٹیل اسٹورز میں پہنچنے والی کھیپ چند گھنٹوں کے اندر فروخت ہو جاتی ہے۔ سیاٹل سے لے کر لاس اینجلس، نیو جرسی سے واشنگٹن تک ہندوستانی آموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا اشارہ ہے کہ اب یہ ذائقہ صرف ہندوستانی نژاد افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی صارفین بھی اس کے دلدادہ بنتے جا رہے ہیں۔
امریکہ میں ہندوستان کے سفیر ونئے کواترا کے مطابق ہندوستانی آموں کی کامیابی صرف پرانی یادوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے منفرد ذائقے اور معیار نے بھی امریکی بازار میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں تک امریکہ میں مقیم ہندوستانی خاندان گرمیوں کی تعطیلات میں وطن جا کر آموں سے لطف اندوز ہوتے تھے اور پھر ان یادوں کو اپنے ساتھ واپس لے آتے تھے، لیکن اب وہی ذائقہ امریکہ کے بڑے اسٹورز میں دستیاب ہے۔
