
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عید قربان کی نماز کے خطبے میں آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا ہے کہ دشمن مذاکرات کے دوران ہمیشہ فریب اور جھوٹ سے کام لیتا آیا ہے اور اس کا اصل مقصد مذاکرات نہیں بلکہ ایرانی قوم کو تسلیم پر مجبور کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تہران یونیورسٹی میں عید قربان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عوام کو تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ موجودہ دور میں حق و حقیقت کے راستے میں استقامت اور مزاحمت تقویٰ کی نمایاں مثال ہے۔ ایرانی عوام مسلسل مزاحمت کے ذریعے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا رہے ہیں اور یہ قوم کبھی تھکنے والی نہیں۔
آیت اللہ خاتمی نے کہا کہ دشمن ایرانی عوام کو کمزور کرنا اور تھکانا چاہتے ہیں، مگر یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ انہوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذلت قبول کرنا سب سے بڑی برائی ہے اور ایرانی قوم کبھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہبر معظم انقلاب کی قیادت میں ایران نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا ہے۔ ملک بھر میں عوام کی مسلسل سڑکوں پر موجودگی اور مزاحمت قومی اتحاد اور استقامت کی علامت ہے۔
خطیب نماز عید قربان نے عوام کو پانی، بجلی اور دیگر وسائل میں کفایت شعاری کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اسراف سے بچنا قومی ذمہ داری اور مزاحمت کا حصہ ہے۔ کم وسائل میں زندگی گزارنا اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔
آیت اللہ خاتمی نے عشرۂ ولایت کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ غدیر کا پیغام امت مسلمہ کے اتحاد اور امامت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اہلِ بیتؑ کی محبت تمام مسلمانوں کے درمیان مشترکہ قدر ہے۔
انہوں نے غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت میں عالمی سطح پر روانہ ہونے والے صمود فلوٹیلا کو انسانی ضمیر کی بیداری قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام نے اسرائیلی مظالم اور صہیونی حکومت کی سنگ دلی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
