
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر نے جنوبی لبنان کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر حزب اللہ اور لبنانی قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقاومتِ اسلامی نے صیہونی جارحیت کے خلاف وہ عظیم فتوحات حاصل کی ہیں جن کی مثال معاصر تاریخ میں نہیں ملتی۔
انصار اللہ نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ لبنان کی مزاحمت نے ثابت کر دیا ہے کہ غصب شدہ زمین کی واپسی اور قومی وقار کا تحفظ صرف اور صرف جہاد اور مقاومت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان کی آزادی کا دن ہمیں تاریخ کا یہ اہم سبق یاد دلاتا ہے کہ اگر حزب اللہ کی قربانیاں اور مزاحمت نہ ہوتی تو آج پورا لبنان دشمن کی جولان گاہ بنا ہوتا اور صیہونی حکومت وہاں آزادانہ اپنی جارحیت مسلط کر رہی ہوتی۔ حزب اللہ نے اپنی طاقت سے دشمن کے ناقابلِ شکست ہونے کے بت کو پاش پاش کر دیا۔
انصار اللہ نے حزب اللہ کے سابق سیکرٹری جنرل شہید سید حسن نصراللہ کے کردار کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی کٹھن حالات میں مقاومت کی قیادت کی اور اسے فتوحات کے دور میں داخل کیا۔ شہید نصراللہ کی شخصیت، قیادت، ایمان اور استقامت کا ایک ایسا الہامی مکتبِ فکر ہے جو رہتی دنیا تک حق کی خاطر لڑنے والوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
بیان میں انصار اللہ نے اپنے اس اصولی موقف کا اعادہ کیا کہ لبنان کی اسلامی مزاحمت نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ عالمی استعمار اور صیہونیت کے مقابلے میں سفارتی مصلحتوں کے بجائے صرف مسلح جہاد ہی وہ واحد راستہ ہے جو کسی بھی ملک کی حاکمیت اور عوام کی کرامت کی ضمانت دے سکتا ہے۔
