معاہدے کے گرد دھندلا منظرنامہ؛ واشنگٹن کا بیانیہ اور مذاکرات کی اصل حقیقت

مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق خبروں میں تیزی آئی ہے، لیکن سیاسی اور زمینی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اب تک کوئی حتمی اور قطعی معاہدہ طے نہیں پایا اور مذاکراتی فضا بدستور ابہام کا شکار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق میڈیا میں پھیلنے والی خبروں اور بیانیہ سازی کو زمینی حقائق کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے، خصوصاً اس لیے کہ ماضی میں واشنگٹن حساس مواقع پر غیر متوقع اور بعض اوقات متضاد رویہ اختیار کرتا رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ داخلی سیاسی اور انتخابی وجوہات کی بنا پر خارجہ پالیسی میں کسی بڑی کامیابی کے محتاج ہیں، لیکن اُنہیں داخلی دباؤ، صہیونی لابی کے اثر و رسوخ اور اپنی تشہیری سیاست جیسے پیچیدہ عوامل کا سامنا بھی ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق اگر کسی معاہدے کا اعلان بھی ہو جاتا ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ صرف ایک عارضی اور نازک سمجھوتہ ہوگا، کیونکہ بنیادی اختلافات اور اہم تنازعات کو بعد کے مراحل کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں نے خطے اور ایران کے داخلی حالات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اگرچہ ان جنگوں نے نقصانات پہنچائے، لیکن انہوں نے قومی سطح پر نئی صلاحیتیں اور طاقت بھی پیدا کی ہیں۔ اسی بنیاد پر کہا جا رہا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی یا سفارتی عمل کو ایران کے واضح اور ناقابلِ چشم پوشی مطالبات کی بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

ان بنیادی مطالبات میں تمام محاذوں پر جنگ اور کشیدگی کا مکمل خاتمہ، پابندیوں کا حقیقی اور مؤثر خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی، جنگی نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے حقِ حاکمیت کو تسلیم کرنا شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق انہی مطالبات کی تکمیل سے امریکی فریق کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکے گا، ورنہ کوئی بھی معاہدہ صرف بحران میں عارضی وقفہ سمجھا جائے گا، مستقل حل نہیں۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات میں سب سے اہم چیز داخلی اتحاد کا تحفظ، نفسیاتی جنگ سے ہوشیار رہنا اور مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں جلد بازی میں فیصلے یا خوش فہمیاں پیدا کرنے سے گریز کرنا ہے، کیونکہ تہران اور واشنگٹن کے تعلقات ہمیشہ پیچیدہ اور گہری بداعتمادی پر مبنی رہے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *