مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتے ہی تیل کی قیمتوں میں بڑا دھماکہ، خام تیل 4 ڈالر سے زیادہ مہنگا

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے، آبنائے ہرمز میں آمدورفت میں رکاوٹ اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں 4 ڈالر سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

برینٹ خام تیل کی قیمت گرین وچ وقت کے مطابق پیر کی صبح 3 بج کر 40 منٹ پر 4 ڈالر 16 سینٹ اضافے کے بعد 105 ڈالر 45 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔

اسی دوران امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 4 ڈالر 38 سینٹ یا 4.59 فیصد اضافے کے ساتھ 99 ڈالر 80 سینٹ فی بیرل پر ٹریڈ ہوئی۔

دونوں عالمی تیل اشاریوں میں گزشتہ ہفتے تقریباً 6 فیصد کمی دیکھی گئی تھی، کیونکہ منڈیوں کو امید تھی کہ خطے میں کشیدگی کم ہوگی اور آبنائے ہرمز میں آمدورفت معمول پر آ جائے گی۔

فلپ نووا انسٹی ٹیوٹ کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا ساچدیوا نے کہا کہ عالمی تیل مارکیٹ اب بھی جغرافیائی سیاسی عوامل کے شدید اثر میں ہے اور واشنگٹن یا تہران کی جانب سے آنے والے ہر بیان، وارننگ، تصدیق یا تردید پر قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ 13 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے مختلف امور پر بات چیت متوقع ہے۔

آئی جی انسٹی ٹیوٹ کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور نے ایک نوٹ میں کہا کہ اس وقت عالمی خام تیل مارکیٹ کی تمام تر توجہ ٹرمپ کے دورۂ چین پر مرکوز ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے اتوار کے روز کہا کہ دنیا گزشتہ دو ماہ میں تقریباً ایک ارب بیرل تیل سے محروم ہو چکی ہے اور توانائی مارکیٹ کو مستحکم ہونے میں وقت لگے گا، حتیٰ کہ اگر سپلائی بحال بھی ہو جائے۔

آئی این جی انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کاروں نے پیر کے روز اپنی رپورٹ میں کہا کہ اگرچہ شدید تیل بحران 2026 کے آخر تک کم ہو سکتا ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں دوبارہ رکاوٹوں کے خدشات، ذخائر میں کمی اور کمزور پالیسی ہم آہنگی کے باعث جغرافیائی سیاسی خطرات قیمتوں پر اثر انداز رہیں گے۔

ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ طلب میں اضافے اور ذخائر کی بتدریج بحالی کے ساتھ برینٹ خام تیل کی قیمت 2026 تک 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر اور 2027 میں 80 سے 85 ڈالر فی بیرل کے درمیان برقرار رہ سکتی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *