مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے پیر کے روز بیروت میں امریکی سفیر مشیل عیسیٰ سے ملاقات کی، جس میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ صورتحال اور واشنگٹن میں ہونے والے متوقع مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران نواف سلام نے اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنا ناگزیر ہے تاکہ خطے میں استحکام قائم رکھا جا سکے۔
دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی صدارتی محل بعبدا میں امریکی سفیر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے لبنان، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان رواں ہفتے واشنگٹن میں ہونے والے تیسرے سہ فریقی اجلاس سے متعلق امور پر گفتگو کی۔
صدر جوزف عون نے واضح انداز میں اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ جنگ بندی یقینی بنائی جا سکے، فوجی کارروائیاں مکمل طور پر بند ہوں اور رہائشی علاقوں کی تباہی کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حزب اللہ امریکی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کی سخت مخالفت کر رہی ہے۔
اسی تناظر میں لبنانی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے رکن حسن عزالدین نے اسرائیل کے فوجی منصوبوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں بفر زون جیسی اصطلاحات مزاحمتی قوتوں کے لیے ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمتی فورسز اسرائیلی فوج کو لبنان کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ یا موجودگی کی اجازت نہیں دیں گی۔
حسن عزالدین نے مزید کہا کہ مزاحمت اسرائیلی فوج کو مسلسل خوف، بے چینی اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھے گی۔
