
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے کہا ہے کہ دشمن اپنے طے شدہ اہداف میں سے کوئی بھی حاصل نہیں کرسکا جبکہ ایران کی مسلح افواج نے پوری جنگ کے دوران اپنی جنگی صلاحیت برقرار رکھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی افواج نے جنگ کو مؤثر طریقے سے سنبھالا اور بالآخر دشمن کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا۔
اکرمی نیا کے مطابق جنگ کے دوران ملک کے اندر قومی جذبہ اور قومی ترجیحات پر توجہ مزید مضبوط ہوئی جس کے باعث اسلامی جمہوری ایران داخلی طور پر پہلے سے زیادہ مستحکم ہوکر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ وہ ممالک جو ایران کے خلاف امریکی قیادت میں عائد پابندیوں کی پیروی کریں گے انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
جنگی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ دشمن کو یہ گمان تھا کہ ایران کی مسلح افواج طویل عرصے تک جنگی کارروائیاں جاری نہیں رکھ سکیں گی، لیکن یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔ جنگ کے چالیسویں دن تک ایران نے اپنی فوجی صلاحیت محفوظ رکھی، جنگ کو مہارت سے چلایا اور دفاعی و جارحانہ دونوں نوعیت کی کارروائیاں جاری رکھیں، جس کے بعد دشمن کو احساس ہوگیا کہ وہ اس مزاحمت کو توڑ نہیں سکتا اور اسے بالآخر جنگ بندی پر آمادہ ہونا پڑا۔
