جنوبی لبنان میں صہیونی فوج کو حزب اللہ کے ڈرونز سے شدید مشکلات

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ذرائع ابلاغ نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی فوج حزب اللہ کے ڈرونز کے مقابلے میں مؤثر دفاع کرنے میں ناکام ہے۔

رپورٹ کے مطابق وہاں موجود صہیونی فوجیوں نے بتایا کہ وہ حزب اللہ کے ڈرون حملوں سے بچنے کے لیے ابتدائی نوعیت کے طریقے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جن میں مچھلی پکڑنے والے جالوں کا استعمال بھی شامل ہے تاکہ ڈرون دھماکوں کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔

لبنان میں چھٹی مرتبہ تعینات ایک اسرائیلی فوجی نے کہا کہ صہیونی فوج مسلسل خطرے کی حالت میں رہتی ہے اور ان ڈرونز کا مقابلہ کرنے کا کوئی مؤثر طریقہ موجود نہیں، اس لیے اکثر انہیں حملے کے وقت پناہ گاہوں کی طرف فرار ہونا پڑتا ہے۔

فوجی کے مطابق حزب اللہ کے ڈرون حملوں کے باعث خطرے کے سائرن دن میں کئی مرتبہ بجتے ہیں اور حزب اللہ کے نئے ڈرونز کی آواز سننا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ تکنیکی حل تلاش کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن ان ڈرونز کے خلاف کوئی مؤثر جدید نظام یا قابلِ اعتماد ٹریکنگ آلات موجود نہیں ہیں۔ بعض فیلڈ کمانڈرز کو سادہ حفاظتی سامان خریدنے کے لیے عوامی چندہ جمع کرنے تک کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کی حکمت عملی بھی زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے، مثال کے طور پر پہلا ڈرون حملہ کرنے کے بعد دوسرا ڈرون امدادی ٹیموں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *