قاسم کے مطابق چندرناتھ نے فون کر کے کہا تھا کہ آ جاؤ نظام پیلس میں بیٹھتے ہیں۔ بات چیت کریں گے اور چائے پیئیں گے۔ ہم نے کہا کہ آج نہیں آ پائیں گے، کل ملیں گے۔ وہی ہماری آخری بات تھی۔


i
مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع کے مدھیم گرام میں بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری کے پی اے چندرناتھ رتھ کے قتل کے بعد لوگوں میں کافی غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ چندرناتھ کے دوست قاسم علی کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ان کے چہرے پر غصہ، آواز میں درد اور آنکھوں میں بے چینی دکھائی دے رہی ہے۔ انتہائی جارحانہ انداز میں وہ کہتے ہیں کہ 9 تاریخ کی صبح ہمارے وزیر اعلیٰ حلف اٹھائیں گے اور شام تک ہمیں انکاؤنٹر چاہیے۔
دوسری جانب چندرناتھ رتھ کی ماں ہسیرانی رتھ کا کہنا ہے کہ ’’میں قصورواروں کو سزا دلانا چاہتی ہوں۔ میں ایک ماں ہوں، میں انہیں پھانسی نہیں دلانا چاہتی۔ میں ان کے لیے تاعمر قید چاہتی ہوں۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ ’’انہوں نے (قاتلوں نے) یہ سب بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے سبب کیا ہے۔ ہمارے ریاستی صدر اور لیڈران بار بار ریاست میں لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ لیکن حکمراں جماعت کے وہ لوگ جو اشتعال انگیز بیان دے رہے تھے، کہ 4 مئی کے بعد دہلی کے باپ ہمیں نہیں بچا پائیں گے، انہوں نے 4 مئی کے بعد وہی کر دکھایا۔ میرے بیٹے کی موت کسی حادثے میں ہوئی ہوتی تو مجھے اتنی تکلیف نہیں ہوتی۔‘‘
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق بدھ کی شام تقریباً 6 سے 6:30 بجے قاسم کی چندرناتھ سے آخری بات چیت ہوئی تھی۔ چندرناتھ نے فون کر کے کہا تھا کہ آ جاؤ نظام پیلس میں بیٹھتے ہیں۔ بات چیت کریں گے اور چائے پیئیں گے۔ بی جے پی کی جیت کا جشن منائیں گے۔ ہم نے کہا کہ آج نہیں آ پائیں گے، کل ملیں گے۔ وہی ہماری آخری بات تھی۔ لیکن جس جشن کی تیاری ہو رہی تھی، اس سے قبل ہی رات گولیوں کی آواز نے سب کچھ ختم کر دیا۔
دوست چندرناتھ کے قتل کے بعد قاسم علی نے روتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اصل ہدف سویندو ادھیکاری تھے۔ چندرناتھ ان کے سب سے قریبی لوگوں میں سے تھے۔ بہت دن سے ان پر نظر رکھی جا رہی تھی۔ جن لوگوں نے حملہ کیا، انیں سب معلوم تھا کہ وہ کہاں رہتے ہیں اور کب آتے جاتے ہیں۔ قاسم علی کا الزام ہے کہ یہ کوئی عام جرم نہیں ہے بلکہ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا قتل ہے۔ حالانکہ پولیس نے اب تک اس اینگل کی آفیشل تصدیق نہیں کی ہے، لیکن تحقیقاتی ایجنسیاں اس امکان کو بھی خارج نہیں کر رہی ہیں کہ حملہ آوروں کو موومنٹ کی مکمل جانکاری نہیں تھی۔
قاسم علی نے انتہائی سنگین سیاسی الزام بھی عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی چندرناتھ کی کامیابی برداشت نہیں کر پائے۔ بھوانی پور انتخاب میں جو کام چندرناتھ نے کیا اس کے بعد وہ نشانہ پر آ گئے تھے۔ ممتا بنرجی شکست تسلیم نہیں کر پا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بنگال کی عوام اس قتل کو کبھی نہیں بھولے گی۔ حالانکہ ان الزامات کی اب تک تصدیق نہیں ہو پائی ہے اور پولیس فی الحال تمام زاویوں سے اس معاملہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

