راجیو گھئی کے مطابق آپریشن سندور نے ہماری ’سودیشی‘ صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔ اس میں استعمال کیے گئے ہتھیاروں کے نظام، گولہ بارود، راکٹ اور میزائلوں، سینسر اور الیکٹرانک وارفیئر سوٹ کا ایک بڑا حصہ ہندوستان میں ہی تیار کیا گیا تھا۔ برہموس، آکاش، جدید ترین نگرانی اور ہدف کے تعین کے نظام کے ساتھ ساتھ مقامی گولہ بارود اور پرزہ جات نے بھی اس میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ’سودیشی‘ ساز و سامان کا مطلب صرف خود انحصاری ہی نہیں تھا، بلکہ اس میں یہ لچک بھی تھی کہ ہم اپنی آپریشنل ضروریات کے مطابق انہیں ڈھال سکیں، سپلائی چین کو برقرار رکھ سکیں اور پوری رفتار اور اعتماد کے ساتھ جواب دے سکیں۔
’آپریشن سندور‘ تو بس شروعات ہے، جنگ جاری رہے گی: لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی
