راہل گاندھی نے کہا کہ لداخ کے لوگ ترقی کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ وہ روزگار اور صنعتی مواقع چاہتے ہیں۔ لداخ کے نوجوان ایسی ترقی کے حامی ہیں جس سے مقامی آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچے۔


i
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے حال ہی میں لداخ دورہ کے دوران وہاں کے نوجوانوں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مرکز کے زیر انتظام اس خطہ کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات کی ویڈیو راہل گاندھی نے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کی، جس کے ساتھ انہوں نے ایک بیان بھی جاری کیا ہے، جس میں لداخ کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اپنے بیان میں راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ’’لداخ کے نوجوانوں نے مجھے بتایا کہ کس طرح ان کے خوبصورت آشیانوں کو ایک ’پولیس راج‘ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقامی لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے، ان کے جمہوری حقوق کو کچلا جا رہا ہے اور ان کی زمینوں کے ساتھ ساتھ حساس ماحولیات کو بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی صنعت کار دوستوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی نے واضح کیا کہ لداخ کے لوگ ترقی کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ وہ روزگار اور صنعتی مواقع چاہتے ہیں۔ لداخ کے نوجوان ایسی ترقی کے حامی ہیں جس سے مقامی آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچے۔ ان کے مطابق موجودہ پالیسیوں میں مقامی لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ مرکزی وزیر داخلہ اپنے مجوزہ دورۂ لداخ کے دوران ان حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور وہاں کی عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔ راہل گاندھی کی اس پوسٹ کے بعد لداخ کی صورتحال ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ لداخ میں ترقی، ماحولیات اور مقامی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے جامع اور حساس پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
