نیپال ایئرلائنز نے اعتراف کیا کہ میپ میں بین الاقوامی سرحدوں کے حوالے سے نقشہ سازی میں کئی غلطیاں تھیں، جو نہ تو نیپال اور نہ ہی ایئرلائن کے سرکاری مؤقف کی عکاسی کرتی ہیں۔


i
نیپال کی سرکاری ملکیت والی نیپال ایئرلائنز نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے اپنے ’نیٹورک میپ‘ میں ہندوستان کے جموں و کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانے پر معافی مانگی ہے۔ ایئرلائن نے اسے ایک غلطی قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ غلطی غیر ارادی طور پر ہوئی۔
دراصل یہ نیٹورک میپ ایک دن پہلے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا تھا، جس میں جموں و کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا تھا۔ ایئرلائن نے وضاحت کی کہ اس طرح کی غلطی کو درست کیا جا رہا ہے اور مستقبل میں ایسی کوتاہی نہ ہو، اس کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ میپ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس پر سخت تنقید شروع ہو گئی۔ ایئرلائن نے سوشل میڈیا پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ہم حال ہی میں ہمارے سوشل میڈیا چینل پر شیئر کیے گئے نیٹورک میپ میں ہوئی غلطی کے لیے دلی معذرت چاہتے ہیں۔ ہم نے فوری طور پر پوسٹ ہٹا دی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اندرونی جائزہ لے رہے ہیں کہ ہمارا مواد درستگی کے اعلیٰ ترین معیار پر پورا اترے۔‘‘
نیپال ایئرلائنز نے کہا کہ میپ میں بین الاقوامی سرحدوں کے حوالے سے نقشہ سازی میں کئی غلطیاں تھیں، جو نہ تو نیپال اور نہ ہی ایئرلائن کے سرکاری مؤقف کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایئرلائن نے اس بارے میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس خطے میں اپنے پڑوسیوں اور دوستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اس پوسٹ سے پیدا ہونے والی کسی بھی غلطی پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
نیپال ایئرلائنز کارپوریشن کی ترجمان ارچنا کھڑکا نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کو بتایا کہ یہ غلطی گوگل میپ منتخب کرتے وقت ہوئی تھی اور نیٹورک میپ میں بھی وہی غلط نقشہ استعمال کر لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’یہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا، اور جیسے ہی ہمیں غلطی کا علم ہوا، ہم نے پوسٹ کرنے کے 3-2 گھنٹوں کے اندر اسے ہٹا دیا۔‘‘
