’طلبہ کو ہاسٹل میں کیا گیا ہاؤس اریسٹ، دبائی جا رہی آواز‘، پی ایم مودی کے وارانسی دورہ کے درمیان این ایس یو آئی کا الزام

این ایس یو آئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ جمہوریت میں سوال پوچھنا کوئی جرم نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @nsui</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @nsui</p></div>

i

user

وزیراعظم نریندر مودی کے وارانسی دورے کے دوران سیاسی ماحول گرما گیا ہے۔ این ایس یو آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم کی آمد کے وقت اس کے کچھ کارکنوں کو ان کے ہاسٹل کے کمروں میں ہی نظر بند کر دیا گیا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ روہت، امن رائے اور مراری کمار سمیت کئی طلبہ کو کیمپس سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ این ایس یو آئی نے اس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے جمہوری حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔

این ایس یو آئی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ جمہوریت میں سوال پوچھنا کوئی جرم نہیں ہونا چاہیے۔ تنظیم نے اس کارروائی پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور موجودہ طرزِ عمل کو خوف و ہراس پر مبنی حکمرانی قرار دیا ہے۔

کاشی وشوناتھ مندر میں پوجا کے بعد وزیراعظم کا شہر میں ایک میگا روڈ شو بھی تجویز کیا گیا ہے، جس کے بعد وہ گنگا ایکسپریس وے کے افتتاح کے لیے ہردوئی روانہ ہوں گے۔ وارانسی میں جگہ جگہ بنائے گئے استقبالیہ دروازوں کے درمیان پی ایم مودی کا والہانہ استقبال کیا جا رہا ہے۔ پورے پروگرام کے دوران شہر میں سیکورٹی اور ہجوم کے نظم و نسق کے سخت انتظامات دیکھے گئے ہیں، جبکہ سیاسی بیان بازی نے اس دورے کو مزید بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔


[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *