
*درخت، پانی اور زمین بچانا ہے۔ یہ پیغام دنیا والوں تک پہنچانا ہے۔ ہمارے اور ہماری نسلوں کے مستقبل کیلیے۔* ڈاکٹر محمد ناصر باغبان
اورنگ آباد : ملیہ آرٹس سائنس اینڈ مینجمنٹ سائنس کالج بیڑ شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر محمد عثمان باغبان، پیٹھن، پمپری راجہ اورنگ اباد کے تعلیمی، ادبی, سماجی، علمی اور سیاسی کارکن موجودہ موسم پر کہتے ہیکہ 40 ڈگری سے اوپر دنیا کے 100 گرم ترین شہروں میں سے 92 بھارت میں ہیں، اتر پردیش کا باندہ ملک کا گرم ترین مقام ہے، جہاں درجہ حرارت 47.4 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ راجستھان اور مہاراشٹر سمیت چار ریاستوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز کرگیا۔ 10 ریاستوں میں ہیٹ ویو الرٹ شمالی بھارت میں آسمان سے آگ برس رہی ہے
، اتر پردیش، دہلی اور راجستھان میں ریڈ الرٹ آج کل سورج کی تپش میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کہیں درجۂ حرارت 40، 42 بلکہ 44، 47 ڈگری تک پہنچ رہا ہے، جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ درجہ حرارت ہر سال ہر موسم میں بدل رہا ہے۔ مستقبل میں 50 ڈگری تک بھی جاسکتا ہے اس لیے ہمیں گھبرانہ نہیں بلکہ ذمے داری نبھانا ہے۔”درخت بچاؤ، پانی بچاؤ، زمین بچاؤ” یہ صرف تین جملے نہیں ہے۔ ایک سادہ مگر بہت طاقتور پیغام دنیا کے لیے ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم اپنے قدرتی وسائل کی حفاظت کریں گے تو ہماری زمین محفوظ رہے گی۔ یہ تینوں چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں درخت کو اس لیے بچانا ہے درخت سے ہمیں کئی فائدے ہیں جیسے وہ آکسیجن دیتے ہیں، آکسیجن کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے بلکہ سب کچھ ختم ہو جائے گا وہ ماحول کو ٹھنڈا رکھتے ہیں اور بارش میں مدد کرتے ہیں۔ پانی اس لیے بچانا ہے پانی زندگی کی بنیاد ہے،
اس کے بغیر نہ انسان زندہ رہ سکتا ہے نہ ہی چرند پرند اور پودے۔ جب درخت اور پانی محفوظ ہوں گے تو زمین بھی صحت مند رہے گی۔ اگر ہم درخت کاٹیں گے، پانی ضائع کریں گے، تو زمین آہستہ آہستہ نقصان کا شکار ہو جائے گی۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔ پانی ضائع نہ کریں۔ صفائی کا خیال رکھیں۔ ماحول دوست عادات اپنائیں۔ یہ صرف نعرہ نہیں، بلکہ ایک ذمے داری ہے۔ ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کیلئے۔ ابھی وقت ہے سنبھل جائیں۔ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔
*ہر گھر درخت لگائے۔ گھرکاہرفرددرخت لگائے۔*
