جائیداد دھوکہ دہی کیس: محض خریداری فوجداری کارروائی کے لیے کافی نہیں، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا، جس میں اپیل کنندہ ایس آنند کے خلاف کارروائی ختم کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ 2004 میں درج ایف آئی آر سے جڑا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کرور ضلع میں ایک وصیت کو جعلی طریقے سے تیار کر کے آبائی جائیداد کو دھوکہ دہی کے ذریعے فروخت کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ پر ایسا “ایک ذرہ بھی ثبوت” موجود نہیں ہے، جس سے یہ ظاہر ہو کہ اپیل کنندہ کا مبینہ جعلی وصیت نامہ تیار کرنے یا کسی سازش میں کوئی کردار تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ خریداری کے وقت اپیل کنندہ کو کسی قسم کی جعلسازی کا علم تھا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *