آسارام ٹرسٹ نے تقریباً 45 ہزار مربع میٹر زمین واپس لینے کے ریاستی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ یہ زمین موٹیرا علاقے میں واقع ہے، جو نریندر مودی اسٹیڈیم کے قریب ہے اور جہاں سردار پٹیل اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کا منصوبہ بتایا جا رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے عبوری حکم میں کہا کہ جب تک اگلی سماعت نہیں ہو جاتی، اس وقت تک گجرات ہائی کورٹ کے 17 اپریل کے فیصلے پر بھی روک برقرار رہے گی اور زمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
اس سے قبل زمین خالی کرانے کے لیے جاری نوٹس کو آسارام ٹرسٹ نے گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، تاہم سنگل جج نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ بعد ازاں ڈویژن بنچ نے بھی ٹرسٹ کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کے زمین واپس لینے کے حکم کو برقرار رکھا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ٹرسٹ نے زمین کے الاٹمنٹ کی شرائط کی خلاف ورزی کی اور سابرمتی ندی کے علاقے میں بھی غیر قانونی قبضہ کیا گیا، جسے کسی بھی صورت میں باقاعدہ نہیں بنایا جا سکتا۔
