ممتاز ماہرِ اردو تنقید پروفیسر احمد سجاد کا انتقال – علمی و ادبی حلقوں میں گہرا رنج و غم

 

رانچی، 27 اپریل: اردو ادب کے ممتاز نقاد، معروف ادیب اور رانچی یونیورسٹی کے سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس و سابق صدر شعبۂ اردو پروفیسر ڈاکٹر احمد سجاد کو آج نمازِ عصر کے بعد پہاڑی قبرستان، بریاتو میں ہزاروں اشک بار آنکھوں کے درمیان سپردِ خاک کر دیا گیا۔پروفیسر احمد سجاد کا انتقال گزشتہ شب تقریباً ساڑھے دس بجے ہوا،

 

جس کی خبر پھیلتے ہی علمی، ادبی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔مرحوم کی نمازِ جنازہ بریاتو پہاڑی میدان (مسجد الحرا کے قریب) میں ادا کی گئی، جس میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی، مذہبی اور سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں طلبہ، ریسرچ اسکالرز اور عوام نے شرکت کی۔

 

جنازے میں موجود اہم شخصیات میں صدر شعبۂ اردو رانچی یونیورسٹی ڈاکٹر محمد رضوان علی، مولانا تہذیب الحسن رضوی، پروفیسر منظور علی بیگ، ڈاکٹر حسن رضا، ڈاکٹر خالد سجاد، انجینئر طارق سجاد، ڈاکٹر اعجاز احمد، ڈاکٹر آغا ظفر حسنین، ڈاکٹر علی منظور بیگ، ڈاکٹر محمد غالب نشتر، مولانا ڈاکٹر اصغر مصباحی، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر محفوظ عالم، شہر قاضی مفتی قمر عالم، مولانا آفتاب عالم ندوی، مولانا مجیب الرحمن ندوی، قاری عبداللہ، ڈاکٹر وکیل احمد رضوی، راشد جمال، دانش ایاز، علی احمد شمیم، حافظ صدام حسینی سمیت دیگر معززین شامل تھے۔

 

پروفیسر احمد سجاد کی علمی و ادبی خدمات نہ صرف ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ اردو تنقید، تحقیق اور تدریس کے میدان میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی وفات سے اردو ادب کا ایک روشن باب ختم ہو گیا ہے۔ادبی حلقوں، اساتذہ اور طلبہ نے ان کے انتقال کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *