
لون ایپ کے جال میں پھنس کر مسلم نوجوان نے کرلی خودکشی، ویڈیوز سے سنسنی خیز انکشاف
شاملی: اتر پردیش کے شاملی ضلع کے کے نانوپوری گاؤں میں پیش آئے خودکشی کے معاملہ نے تین دن بعد نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ متوفی 27 سالہ بلال کی جانب سے مرنے سے قبل بنائے گئے دو ویڈیوز اب کیس کی اہم کڑی بن گئے ہیں، جن میں اس نے لون ایپ کے ذریعہ ہونے والی دھوکہ دہی اور ذہنی اذیت کو بے نقاب کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 14 اپریل کو بلال کی نعش گاؤں کے قریب کھیتوں میں ملی تھی۔ اس کے والد محمد اسلام کے مطابق بلال نے زہریلی دوا کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ ابتدائی طور پر گھر والوں نے پولیس کو اطلاع دیے بغیر تدفین کر دی تھی، تاہم ویڈیوز سامنے آنے کے بعد معاملہ سنگین ہوگیا۔
گھر والوں نے الزام لگایا ہے کہ ایک لون ایپ کمپنی نے بلال کو بلیک میل کرتے ہوئے اضافی رقم کا مطالبہ کیا۔ بتایا گیا کہ بلال نے تقریباً 50 ہزار روپے قرض لیا تھا، مگر دباؤ کے باعث وہ اب تک تقریباً 5 لاکھ روپے ادا کرچکا تھا۔
مزید الزام ہے کہ کمپنی نے بلال کی تصاویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر ایک نازیبا تصویر تیار کی اور اسی بنیاد پر اسے بلیک میل کیا جا رہا تھا۔ مسلسل دھمکیوں، مالی دباؤ اور ذہنی اذیت نے اسے یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔
پولیس کے مطابق متوفی نے اپنی آخری ویڈیو میں واضح کیا کہ اس کی موت کے لئے اس کے خاندان کا کوئی قصور نہیں ہے اور گھر والوں کی دیکھ بھال کی اپیل کی ہے۔
مقامی پولیس عہدیدار ستییش کمار نے بتایا کہ گھر والوں کی شکایت پر لون ایپ کمپنی کے خلاف بلیک میلنگ اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، اور جلد ہی معاملے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جائے گی۔
