ممتا بنرجی نےعوام کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ’’اگر مرکزی فورس یا پولیس کوئی ظلم کرے تو آن لائن ایف آئی آر درج کریں، ایک بار آپ ایسا کر دیں، باقی میں دیکھ لوں گی۔‘‘


i
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت سیاسی حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حلقہ بندی کا فیصلہ ریاستوں کو بانٹنے اور ووٹر فہرست میں ہیرپھیر کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کی مہم کے دوران کوچ بہار کے ماتھابھانگا میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حلقہ بندی کو خواتین کے لیے ریزرویشن قانون سے جوڑنے کے جواز پر سوال اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ اس اقدام کا مقصد این آر سی کو نافذ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “حلقہ بندی کو خواتین کے ریزرویشن قانون سے کیوں جوڑا گیا ہے؟ اس کے پیچھے این آر سی لانے کا ارادہ ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے اصل ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے جا سکتے ہیں۔
ممتا بنرجی نے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے حال ہی میں کوچ بہار کی ایک ریلی کے دوران غیر ارادی طور پر مرکز کے ارادوں کو بے نقاب کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ “جن لوگوں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں، انہیں نکالنے کی بات کہہ کر امت شاہ نے حقیقت کو سامنے لا دیا ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا، “جب تک میں یہاں ہوں، کسی کا نام نہیں ہٹایا جائے گا۔” ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ دوسروں کو نکالنے کی وکالت کر رہے ہیں انہیں خود حراست میں لیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے سرحدی علاقوں کے ووٹروں کو بھی چوکس رہنے کی وارننگ دی اور الزام لگایا کہ بی جے پی پہلے بھی آسام میں انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے بیرونی افراد کو لا چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بی جے پی کی مجوزہ ’’ماترشکتی بھروسہ کارڈ‘‘ اسکیم پر بھی تنقید کی، جس کے تحت بنگال میں خواتین کو ہر ماہ 3,000 روپے مالی مدد دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے مشکوک اور ممکنہ طور پر دھوکہ دہی پر مبنی اسکیم قرار دیا اور ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے نام، پتہ یا بینک کھاتوں جیسی ذاتی معلومات شیئر نہ کریں۔
ممتا بنرجی نے کہا ’’انتخابات سے عین پہلے ایسا کارڈ کیوں لایا گیا؟ اگر وہ واقعی عوام کی مدد کرنا چاہتے تھے تو پہلے بھی کر سکتے تھے۔ اب وہ ایجنسیوں کے ذریعے ڈیٹا جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ اقدام انتخابات سے قبل حساس معلومات حاصل کرنے اور ووٹروں کو متاثر کرنے کی ایک چال ہے۔
انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ پارٹی کے پاس ریاست میں زمینی سطح پر حمایت کی کمی ہے اور وہ انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے پیسے، طاقت اور بیرونی ایجنسیوں پر انحصار کر رہی ہے۔ انہوں نے مرکزی فورسز اور ایجنسیوں کی مبینہ زیادتیوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور عوام سے کہا کہ اگر انہیں کسی قسم کی دھمکی ملے تو فوری کارروائی کریں۔ عوام کو یقین دہانی کراتے ہوئے انہوں نے کہا ’’اگر مرکزی فورس یا پولیس کوئی ظلم کرے تو آن لائن ایف آئی آر درج کریں، ایک بار آپ ایسا کر دیں، باقی میں دیکھ لوں گی۔‘‘
ممتا بنرجی نے بی جے پی کے خلاف بڑھتی قومی مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادھو ٹھاکرے، اکھلیش یادو، ایم کے اسٹالن اور تیجسوی یادو سمیت کئی بڑے رہنما ان کے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر کے اپوزیشن لیڈروں کو مغربی بنگال میں بی جے پی کے مبینہ ظلم کی مکمل معلومات ہیں اور وہ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
