
نمائندہ خصوصی: خضر احمد یافعی، عادل آباد
عادل آباد، 13 اپریل (اردو لیکس) تلنگانہ کے عادل آباد ریمس ہاسپٹل میں میڈیکل طلبہ کی جانب سے ہاسپٹل کے احاطے میں سوشل میڈیا ‘ریلز’ بنانے کا معاملہ سنگین تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ مریضوں کے علاج کے لئے مخصوص مقامات کو ویڈیوز کی شوٹنگ کے لئے استعمال کرنے پر عوامی اور طبی حلقوں کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بعض طلبہ وارڈز، طبی آلات اور حتیٰ کہ ڈیوٹی کے دوران بھی ویڈیوز ریکارڈ کرتے دیکھے گئے، جسے غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے نہ صرف مریضوں کی رازداری متاثر ہو رہی ہے بلکہ طبی پیشے کے وقار کو بھی ٹھیس پہنچ رہی ہے۔
خاص طور پر آپریشن تھیٹرز، آئی سی یوز اور مریضوں کے وارڈز کے قریب ویڈیوز کی ریکارڈنگ کو انتہائی قابلِ اعتراض قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل مریضوں کی پرائیویسی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور علاج کے لئے آنے والے افراد کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔
ادھر سوشل میڈیا پر محض لائکس اور فالوورز کے حصول کے لئے ایسے اقدامات پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتالوں میں ویڈیو ریکارڈنگ سے متعلق واضح رہنما اصول وضع کئے جائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
دریں اثنا، معاملے کی سنگینی کے پیش نظر رِمس انتظامیہ حرکت میں آ گئی ہے۔ ڈائریکٹر کے دفتر سے جاری اعلامیہ کے مطابق پانچ سینئر پروفیسرز پر مشتمل ایک داخلی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم Instagram پر پوسٹ کی گئی ‘ریلز’ کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
کمیٹی میں ڈاکٹر ودیا ولسن، ڈاکٹر کروناکر، ڈاکٹر سندیپ جادھو، ڈاکٹر نریندر بھنڈاری اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر پی ٹی ڈی پی شامل ہیں۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی مواد ضابطہ کے خلاف پایا گیا تو متعلقہ افراد کے خلاف یونیورسٹی قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔
انتظامیہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اسپتال کے وقار، مریضوں کی رازداری اور ادارہ جاتی نظم و ضبط پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
