ایران امن کے لیے تیار، امریکی آمرانہ رویہ بڑی رکاوٹ ہے، صدر پزشکیان

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کا آمرانہ رویہ اور دوہرا معیار ہے۔ اگر امریکہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے تو ایک منصفانہ اور متوازن معاہدہ ممکن ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوٹین کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال، امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران پر جارحیت اور اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

گفتگو کے دوران صدر پزشکیان نے عید پاک کی مبارکباد پیش کی اور روس کی جانب سے ایران کی حمایت اور یکجہتی کے پیغامات کی قدر دانی کی۔ خصوصاً اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد کی مخالفت کو انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے والا اقدام قرار دیا۔

انہوں نے روسی صدر کو مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ امریکی دوہرے معیار اور آمرانہ موقف ہے۔ ایران پائیدار امن اور خطے کی سلامتی کے لیے متوازن اور منصفانہ معاہدے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

صدر پزشکیان نے خلیج فارس کے ممالک کو ایران کے بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے ہمسایوں کے ساتھ خطے میں امن اور داخلی سلامتی کے قیام کے لیے کسی غیر علاقائی طاقت کی مداخلت کے بغیر تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی ایران کے حکمرانوں اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا اور خطے کے بحران کے حل کے لیے ڈپلومیسی کے عمل کی بھرپور حمایت جاری رکھنے پر زور دیا۔

انہوں نے مغربی فریقوں کے دوہرے معیار پر تنقید کی اور ایران کو جنگ کے دوران پہنچنے والے نقصان کا ازالہ اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں کی ضرورت پر زور دیا۔

دونوں صدور نے اپنے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے جامع اسٹریٹجک معاہدے کے تحت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور بین الاقوامی فورمز میں قریبی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *