دریائے گنگا میں افطار پر نوجوانوں کی گرفتاری، اب وہاں منائی گئی شراب کی پارٹی۔کیا اس سے مذہبی جذبات مجروح نہیں ہوتے: بیرسٹر اسد الدین اویسی کا سوال

نئی دہلی: وارانسی میں دریائے گنگا پر کشتی میں ڈی جے سسٹم لگا کر بیئر پارٹی کرنے کی ویڈیو سامنے آئی ہے ۔رپورٹس کے مطابق ویڈیو میں کچھ افراد کو کشتی پر موسیقی اور پارٹی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

 

یاد رہے کچھ دنوں قبل اسی گنگا ندی پر چند مسلم نوجوانوں نے بغیر کسی کو تکلیف دیے افطار کیا تھا جس کے بعد ان کی گرفتاری ہوگئ تھی جو تا حال سلاخوں کے پیچھے ہیں ۔

 

دریائے گنگا میں کشتی پر افطار پارٹی کرنے پر 14 مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے افطار کے دوران چکن بریانی کھائی

 

اور بچی ہوئی ہڈیاں دریا میں پھینک دیں، جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔بی جے پی یوا مورچہ کے رہنما راجت جیسوال نے پولیس کو شکایت درج کروائی۔راجت جیسوال کا کہنا ہے کہ اس عمل سے گنگا کے تقدس کی بے حرمتی

 

ہوئی ہے۔ اسی دوران کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے وارانسی میں گنگا ندی کے درمیان کشتی پر شراب نوشی اور ہنگامہ آرائی کی وائرل ویڈیو پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کچھ مسلم نوجوانوں کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے کشتی پر افطار کیا اور مبینہ طور پر چکن بریانی کھانے کے بعد ہڈیاں ندی میں پھینکیں، لیکن اب سامنے آنے والی اس نئی ویڈیو پر سوالات اٹھتے ہیں۔

 

اویسی نے استفسار کیا کہ کیا اس طرح کھلے عام شراب نوشی کی اجازت ہے؟ کیا اس سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح نہیں ہوتے؟ کیا یہ عمل سماجی ہم آہنگی کے خلاف نہیں ہے اور کیا اس سے عوام کو تکلیف نہیں پہنچتی؟

 

انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا یہ واٹر ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں ہے اور کیا حکمراں جماعت اس معاملے میں کوئی کارروائی کرے گی؟انہوں نے نشاندہی کی کہ پہلے واقعے میں گرفتار کیے گئے 14 مسلم نوجوان اب بھی جیل میں ہیں۔

 

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ افراد، جن میں چند نیم برہنہ بھی ہیں، کشتی پر سوار ہو کر گنگا ندی میں شراب نوشی کر رہے ہیں، جبکہ ایک دوسری کشتی میں نوجوان ڈی جے کی دھن پر رقص کرتے نظر آ رہے

 

ہیں۔دوسری جانب اطلاعات کے مطابق وارانسی پولیس نے اس معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو مانجھی کمیونٹی کے ایک مذہبی کشتی جلوس کے دوران کی ہے اور اس میں شامل افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *