راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان کا ڈیٹا اس کے عوام کی ملکیت ہے اور یہی ڈیٹا مستقبل کی معیشت، روزگار اور تکنیکی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت سے بارہا پوچھے گئے سوالات کے جواب میں صرف عمومی الفاظ جیسے ’ڈھانچہ‘، ’توازن‘ اور ’خودمختاری‘ استعمال کیے جا رہے ہیں، مگر کسی بھی ٹھوس پالیسی یا یقین دہانی کا فقدان ہے۔
انہوں نے خاص طور پر امریکہ کے ساتھ جاری ڈیجیٹل تجارتی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’رکاوٹیں کم کرنے‘ کا اصل مطلب کیا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی شہریوں کا صحت، مالیاتی اور سرکاری ڈیٹا بیرونِ ملک منتقل کیا جا سکتا ہے؟ کیا غیر ملکی کمپنیاں اس ڈیٹا کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکیں گی؟ ان سوالات پر حکومت کی خاموشی کو انہوں نے تشویشناک قرار دیا۔
