جنگ کا چھبیسواں دن، دشمن پر حملے کی نئی حکمت عملی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اب چھبیسویں دن میں داخل ہوچکی ہے۔ یہ مرحلہ صرف فوجی جھڑپوں کا تسلسل نہیں بلکہ ایک نئی حکمت عملی کی جنگ کا آغاز ہے، جس میں وقت خود ایک ہتھیار بن چکا ہے اور جنگ کے ہر گزرتے دن کے ساتھ مخالف فریق پر سیاسی، سکیورٹی اور معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پچیسویں روز ایران کی جانب سے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت کئی حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں اسرائیل کے مختلف علاقوں حیفا، تل ابیب، نقب اور بئرالسبع کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ خطے میں موجود بعض امریکی اڈوں کو بھی ہدف بنانے کی بات کی گئی۔

دوسری جانب امریکا اور اسرائیل میں خبروں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں اور معلومات کی محدود فراہمی کو اس جنگ کے بڑھتے دباؤ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طویل جنگ کے اثرات ان کے فیصلہ سازی کے نظام پر بھی پڑ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اب جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں فوری اور محدود حملوں کے بجائے طویل دباؤ اور مسلسل کارروائیوں کے ذریعے حریف کی طاقت اور ارادے کو کمزور کرنے کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *