ایران نے اردن میں امریکی جدید ریڈار تباہ کر دیا ہے، سی این این کی تصدیق

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سی ان ان کی نئی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں کے خلاف اپنے جوابی حملوں میں، اردن میں نصب ایک امریکی پیشرفته ریڈار سسٹم کو تباہ کر دیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، یہ حملے ایران کی طرف سے خطے میں دشمن کے دفاعی نظام کو کمزور کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

اردن میں امریکی فضائی اڈے پر نصب تھاڈ ریڈار تباہ

12 فروری کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ اردن میں امریکی فوج کے فضائی اڈے موافق السلطی پر موجود تھاڈ دفاعی سسٹم کا ریڈار نشانہ بنایا گیا اور مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔

یہ اڈہ ایران کی سرحد سے 800 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔

تباہ شدہ ریڈار تھاڈ، دفاعی سسٹم کا ایک اہم حصہ ہے جو دشمن کے بیلسٹک میزائلز کا آسمان میں پتہ لگانے، ٹریک کرنے اور مار گرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہ ریڈار تباہ ہو گیا ہے جو اس پیشرفته میزائل سسٹم کا اہم جزو ہے جو اس کی شناخت کرنے، اس کا پیچھا کرنے اور بالسٹک میزائلز کو دشمن کے ہدف سے منحرف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکہ کے مالی سال 2025 کے میزائل ڈیفنس ایجنسی کے بجٹ کے مطابق، اس سسٹم کی قیمت نصف ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

امارات کے ریڈار سسٹم پر حملے

سی ان ان کی سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کم از کم دو دیگر مقامات پر اسی طرح کی ریڈار سسٹم پر مشتمل عمارتوں کو متحدہ عرب امارات میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

تاہم، ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان حملوں سے ان عمارتوں میں موجود سامان کو نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔

خسارتوں کے بارے میں ماہرین تشخیص کا اندازہ

فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ریڈار کا تباہ ہو جانا تھاڈ سسٹم کو مکمل طور پر ناکارہ نہیں بنا دیتا ہے اور یہ سسٹم اب بھی محدود آپریشنل صلاحیت رکھتا ہے، لیکن یہ اس کی تاثیر کو شدید طور پر کم کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ریڈار کے بغیر، سسٹم اپنی سابقہ کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔

پینٹاگون اور عرب امارات کا ردعمل

پینٹاگون کے ترجمان نے سی ان ان کی جانب سے تبصرے کی درخواست کے جواب میں کہا: آپریشنل سیکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے، ہم کسی خاص صلاحیتوں کے بارے میں بات نہیں کرتے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ ملک مکمل طور پر کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار اور مجهز ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *