
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ماہ رمضان کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ریاستی اداروں کی کوشش ہے کہ ملک کو جنگ کے خطرے سے دور رکھا جائے اور عوام کو پُرامن ماحول فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نازک مرحلے سے دانشمندی اور عقل مندی کے ساتھ گزرنے کی ضرورت ہے۔ بعض بیرونی منصوبے بظاہر ایران کی ترقی کے نام پر پیش کیے جاتے ہیں، لیکن درحقیقت ان کا مقصد ملک کو کمزور کرنا ہوتا ہے، اس لیے حکومت فضا کو کشیدگی کے بجائے استحکام کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایران کا موقف اپنے بنیادی قومی فیصلوں اور پالیسیوں کے مطابق ہے۔ سفارتی محاذ پر ایران پوری سرگرمی کے ساتھ متحرک ہے اور جیسا کہ بارہا کہا گیا ہے، ایران جنگ کے مقابلے میں سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔ تاہم جنگ اور سفارت کاری دونوں ایسی حکمت عملیاں ہیں جو قومی عزت اور مفادات کے تحفظ کے لیے اختیار کی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہر وقت دفاعی طور پر تیار ہیں اور حالیہ فوجی مشقیں اسی تیاری کا ثبوت ہیں۔ ساتھ ہی حکومت سفارتی کوششیں بھی پوری سنجیدگی سے جاری رکھے ہوئے ہے اور ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
فاطمہ مہاجرانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سفارتی عمل کے جو بھی نتائج سامنے آئیں گے، ایران ان کی پاسداری کرے گا۔ کسی بھی غلط اندازے کو روکنے کے لیے تمام ذرائع استعمال کیے جائیں گے، اس لیے ملک ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیرونی محاذ پر ایران کی فعال سفارت کاری جاری ہے، خصوصا برکس کے رکن ممالک اور ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ روابط کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اعلی سطحی دوروں اور مختلف معاہدوں کے ذریعے تعاون کو وسعت دی جارہی ہے۔
