سپریم کورٹ کے سامنے سماعت کے دوران سینگر کے وکیل نے دلیل دی کہ ان کے موکل تقریباً نو سال سات ماہ کی سزا کاٹ چکے ہیں، جب کہ نچلی عدالت کی جانب سے سنائی گئی کل سزا دس سال ہے۔ اس بنیاد پر انہیں ضمانت دی جانی چاہیے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ بھی ان کی ضمانت عرضی مسترد کر چکی ہے۔
مرکزی تفتیشی بیورو کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ سینگر ریپ کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور معاملہ نہایت سنگین نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کیس میں ضمانت دینا مناسب نہیں ہوگا۔
