مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی کے سینئر مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ صہیونی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی عوام کی یکجہتی، استقامت اور عسکری صلاحیتوں کا اندازہ اندازہ لگایا۔
عالمی اسمبلی برائے اسلامی بیداری کے سیکریٹری جنرل علی اکبر ولایتی نے یہ بات شہید جنرل قاسم سلیمانی کی چھٹی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی، جو ایک خصوصی نشست “ایران اور صہیونی حکومت کے درمیان 12 روزہ جنگ: بیانیوں کی وضاحت اور شکوک کا جواب” کے ساتھ جاری کیا گیا۔
ڈاکٹر ولایتی نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی دانشمندانہ قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت اور فیصلہ کن رہنمائی نے قومی وحدت کو محفوظ رکھا، دفاعی قوت میں اضافہ کیا اور دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا۔
انہوں نے کہا کہ 12 روزہ جنگ محض ایران اور صہیونی حکومت کے درمیان محدود تصادم نہیں تھی بلکہ یہ ایک وسیع محاذ آرائی تھی، جس کی پشت پناہی نیٹو کر رہا تھا، قیادت امریکا کے ہاتھ میں تھی اور دیگر عناصر بھی اس میں شامل تھے۔ ان کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات پر براہ راست امریکی حملے واشنگٹن کی عملی شمولیت کا واضح ثبوت ہیں۔
علی اکبر ولایتی نے زور دیا کہ ایرانی عوام کی مزاحمت، اتحاد اور شہداء خصوصا شہید جنرل قاسم سلیمانی کے راستے پر ثابت قدمی نے دشمن کے اہداف کو ناکامی سے دوچار کردیا۔ صہیونی حکومت اور اس کے اتحادی نہ صرف ایران کی عسکری طاقت بلکہ رہبر معظم انقلاب کے مرکزی کردار کو بھی سمجھنے میں ناکام رہے، جو میدان جنگ اور عوام دونوں کی قیادت کر رہے تھے۔
انہوں نے ایران کی میزائل صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جدید دفاعی نظاموں کو چیرتے ہوئے حساس اہداف پر درست حملوں، مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے سے طاقت کا توازن بدل گیا اور دشمن کو جنگ بندی پر مجبور کردیا۔
ولایتی نے مغربی ایشیا میں امریکہ اور صہیونی حکومت کے طویل المدتی منصوبوں کی ناکامی، تکفیری سازشوں کے خاتمے اور اسلامی انقلاب کے پیغام کو قتل و غارت کے ذریعے روکنے میں ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی حکومت کی جانب سے معاشی نقصانات، اندرونی اختلافات اور شناختی بحران کے اعترافات شکست کی واضح علامت ہیں، چاہے بیانیاتی جنگ کے ذریعے حقیقت چھپانے کی کوشش کی جائے۔
انہوں نے قومی وحدت کے تحفظ، خود اعتمادی کے فروغ اور صلاحیتوں میں اضافے پر زور دیتے ہوئے امت مسلمہ کو عزت، پیشرفت اور مزاحمت کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی دعوت دی، تاکہ ایک نئی اسلامی تہذیب کی تشکیل ممکن ہوسکے۔
