
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ 12 روزہ جنگ کے دوران صہیونی حکومت کو ایرانی مسلح افواج کے ہاتھوں شدید ضربیں لگیں، تاہم اسرائیل اپنے حقیقی نقصانات اور تباہی کو سنسر شپ کے ذریعے چھپا رہا ہے۔
میجر جنرل عبداللہی نے سپاہ پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے سابق سربراہ شہید امیر علی حاجی زادہ اور خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے شہید کمانڈر علی باباخانی کے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران دفاعِ مقدس اور بالخصوص 12 روزہ جنگ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید حاجی زادہ نے ایران کی میزائل طاقت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
میجر جنرل عبداللہی نے کہا کہ صہیونی حکومت کو اس جنگ میں واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اسے بھاری اور کاری ضربیں لگیں، مگر اسرائیلی حکام اپنے نقصانات اور ایرانی جوابی کارروائی کے اثرات کو عوام سے چھپا رہے ہیں۔ انہی شدید نقصانات کے باعث صہیونی حکومت کو یکطرفہ طور پر جنگ بندی کی درخواست کرنا پڑی، جبکہ اسلامی جمہوری ایران نے کبھی بھی جنگ یا فوجی تصادم کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران کے خلاف کھلی اور بلاجواز جارحیت کا آغاز کیا، ایسے وقت میں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے۔ اس جارحیت کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ چھڑ گئی، جس میں کم از کم 1064 افراد شہید ہوئے، جن میں عسکری کمانڈر، جوہری سائنس دان اور عام شہری شامل تھے۔
میجر جنرل عبداللہی نے کہا کہ امریکا نے بھی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر بمباری کی، جس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اسٹریٹجک اہداف اور قطر میں واقع العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا، جو مغربی ایشیا میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 24 جون کو ایران نے صہیونی حکومت اور امریکا کے خلاف کامیاب جوابی کارروائیوں کے ذریعے دونوں کو جارحیت روکنے پر مجبور کر دیا، جو ایران کی دفاعی طاقت اور اسٹریٹجک برتری کا واضح ثبوت ہے۔
