
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مستقبل میں کسی بھی قسم کے مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہوں گے جب وہ بین الاقوامی سفارتی اصولوں اور طے شدہ ضوابط کے مطابق ہوں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عراقی حکومت بغداد میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ بات چیت کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی کی کوششوں کو خطے کے امن و استحکام کے لیے قابل تحسین قرار دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سے چھ ماہ کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ مذاکرات کے آغاز کے لیے فریقین کا سفارتی آداب اور گفتوگو کے اصولوں کی پابندی کرنا ناگزیر ہے، بصورت دیگر سنجیدہ اور نتیجہ خیز بات چیت ممکن نہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ایران ہمیشہ سفارتکاری کو قومی مفادات کے دفاع اور پیش رفت کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے اور جہاں بھی یہ راستہ مفید ہو، اسے اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے اس تاثر کی بھی وضاحت کی کہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے کا چینل منقطع نہیں ہوا بلکہ مفادات کے سیکشن کے ذریعے سرکاری رابطہ بدستور موجود ہے۔
اسماعیل بقائی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایرانی اور امریکی نمائندوں کے درمیان ہونے والے بیانات کے تبادلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا موقف تضاد کا شکار ہے، کیونکہ ایک طرف مذاکرات کی خواہش ظاہر کی جاتی ہے اور دوسری طرف ایسی پیشگی شرائط عائد کی جاتی ہیں جو دوسرے فریق کے لیے قابل قبول نہیں ہوتیں۔
دوسری جانب عراقی وزیرِاعظم محمد شیاع السودانی نے کہا ہے کہ عراق ایران اور امریکا کے درمیان بغداد میں ایک دوطرفہ ملاقات کے انعقاد کے لیے کوشاں ہے، اور ماضی کی طرح اس بار بھی کشیدگی کم کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ دونوں فریقوں کے اپنے تحفظات ہیں، تاہم بات چیت کی بحالی کی مخالفت کوئی بھی نہیں کر رہا۔
