
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے ایران کی خارجہ پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے مغربی دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
لاوروف نے بتایا کہ ایرانیوں نے مغرب کی تمام اشتعال انگیزیوں کا جواب مذاکرات سے دینے اور بقایا اختلافات کو سیاسی ذرائع سے حل کرنے کے عزم کا اظہار کر کے انتہائی صبر و تحمل کا ثبوت دیا ہے۔
روسی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں سال جون میں خطہ ایک ہولناک جنگ دیکھ چکا ہے۔ 13 جون 2025 کو جب واشنگٹن اور تہران ایٹمی مذاکرات میں مصروف تھے، اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کر دیا تھا۔ اس 12 روزہ جنگ کے نتیجے میں 1,064 سے زائد ایرانی شہری، ایٹمی سائنسدان اور فوجی کمانڈر شہید ہوئے تھے۔
اس جنگ میں امریکہ نے بھی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی تین ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی تھی۔ جواب میں، ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اسٹریٹجک مقامات کے ساتھ ساتھ قطر میں واقع مغربی ایشیا کے سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے العدید کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
24 جون کو ایران نے اپنی کامیاب جوابی کارروائیوں کے ذریعے اسرائیل اور امریکہ کو جارحیت روکنے پر مجبور کر دیا تھا، جس کے بعد سے خطے میں ایک بار پھر سفارتی کوششوں کا آغاز ہوا ہے۔
