شمالی کوریا میں پہلی ایٹمی آبدوز کی رونمائی؛ خطے میں دفاعی توازن تبدیل ہونے کا امکان

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے صدر کم جونگ ان کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں وہ ایک ہال کے اندر زیرِ تعمیر ایک بڑی آبدوز کا معائنہ کر رہے ہیں۔ اس دورے میں ان کے ہمراہ اعلیٰ حکام اور ان کی بیٹی بھی موجود ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ کم جونگ ان نے شپ یارڈ کا دورہ کر کے اس آبدوز کا معائنہ کیا جسے پیونگ یانگ 8,700 ٹن وزنی ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوز قرار دے رہا ہے۔ تاہم، ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ دورہ کب ہوا تھا۔ یہ مارچ کے بعد پہلا موقع ہے جب شمالی کوریا نے اس آبدوز کی مکمل تصاویر جاری کی ہیں، اس سے قبل صرف اس کے نچلے حصوں کی جھلک دکھائی گئی تھی۔

کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے ایٹمی آبدوز حاصل کرنے کے منصوبے کو ایک جارحانہ اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل شمالی کوریا کی سلامتی اور بحری خودمختاری کو سخت چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کے ایسے جارحانہ اقدامات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شمالی کوریا کی فوج کو جدید بنانے اور اسے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کرنے کی ضرورت کیوں ہے۔ کم جونگ ان نے دعویٰ کیا کہ اس جوہری آبدوز کی تکمیل ایٹمی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانے میں ایک تاریخ ساز تبدیلی ثابت ہوگی۔

پیونگ یانگ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس آبدوز کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور اسے سٹریٹجک گائیڈڈ میزائل سب میرین کا نام دیا گیا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *