ایرانی میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں خوف برقرار، پناہ گاہوں کی تعمیر کے نئے اصول متعارف

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی جانب سے کیے گئے شدید میزائل حملوں کے اثرات اب بھی اسرائیلی معاشرے پر چھائے ہوئے ہیں اور بارہ روزہ جنگ کو گزرے کئی ماہ بعد بھی صہیونی عوام خوف اور بے چینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ انہی حالات کے پیش نظر اسرائیل کی فوجی قیادت نے پناہ گاہوں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے نئے معیارات جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج جلد ایسے نئے تعمیراتی ضوابط متعارف کرائے گی جو ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کے دوران سامنے آنے والی کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر تیار کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ میزائل حملوں کے وقت کئی پناہ گاہوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہ ہونے کے باعث دھماکوں کی شدت برداشت نہ کرسکے اور اکھڑ گئے، جس سے جانی نقصان بڑھ گیا۔

نئے معیارات کے تحت پناہ گاہوں کے دروازوں پر سرخ اور سبز رنگ کی واضح نشاندہی کی جائے گی تاکہ یہ فورا معلوم ہوسکے کہ دروازہ محفوظ انداز میں بند ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ پناہ گاہوں کی اندرونی دیواروں کو بھی مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے، کیونکہ ایرانی میزائل حملوں کے دوران یہ دیواریں بیرونی دیواروں کی طرح دباؤ کا شکار ہوئیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غزہ کے اطراف میں حماس کے حملوں سے حاصل ہونے والے تجربات کے بعد اس بات پر بھی توجہ دی گئی ہے کہ پناہ گاہوں کے دروازے ہلکے ہتھیاروں کی فائرنگ کے مقابلے میں بھی محفوظ نہیں تھے، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ اسی لیے نئے ضوابط میں بلٹ پروف دروازے نصب کرنے یا موجودہ دروازوں کو اضافی حفاظتی پرت فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے پناہ گاہوں کو محفوظ بنانے کی یہ کوشش اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے نفسیاتی اور سماجی اثرات اب بھی اسرائیلی داخلی محاذ پر گہرے اثرات چھوڑے ہوئے ہیں اور صہیونی قیادت مستقبل میں کسی بھی ممکنہ خطرے کے لیے شدید تشویش کا شکار ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *