مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ نے تہران میں پہلی نیوکلیئر میڈیسن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے ایران علم کی راہ پر گامزن ہے اور اس راستے میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملک نے اپنے سائنسدانوں اور باصلاحیت نوجوانوں کی بدولت سائنسی میدان میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے اور ایران اس ترقی کے لیے رہبرِ انقلاب اسلامی کی حکیمانہ سفارشات کا مرہونِ منت ہے۔
اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ حالیہ 12 روزہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے اے ای او آئی (AEOI) کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے آغاز نے ثابت کیا کہ دشمنوں کی اصل فکر ملک کی سائنسی ترقی ہے۔ اسی لیے انہوں نے ایٹمی سائنسدانوں اور ملک کے باصلاحیت نوجوانوں کو شہید کیا۔
یاد رہے کہ 13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران کے خلاف اس وقت بلا اشتعال جارحیت کی جب واشنگٹن اور تہران جوہری مذاکرات کے عمل میں تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں شروع ہونے والی 12 روزہ جنگ میں فوجی کمانڈروں، جوہری سائنسدانوں اور عام شہریوں سمیت کم از کم 1,064 افراد شہید ہوئے۔ امریکہ نے بھی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر بمباری کر کے اس جنگ میں حصہ لیا۔
جوابی کارروائی میں ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں تزویراتی مقامات کے ساتھ ساتھ قطر میں واقع مغربی ایشیا کے سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے العدید کو نشانہ بنایا۔ بالآخر 24 جون کو ایران نے اسرائیلی حکومت اور امریکہ کے خلاف اپنی کامیاب جوابی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کو جارحیت روکنے پر مجبور کر دیا۔
