نامور شاعر ادبی شخصیت عزیز بلگامی انتقال کرگئے — اردو شاعری ایک مخملی آواز سے محروم
بلگام – کرناٹک / 28 نومبر ( اردولیکس ڈیسک) اردو ادب کے لئے نہایت افسوسناک خبر ہے کہ ممتاز شاعر، ادیب اور ترنم سے مزین مشاعراؤں کی جان عزیز بلگامی جمعہ کی صبح انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال سے اردو دنیا ایک ایسی دلنشین آواز اور منفرد لہجے سے محروم ہوگئی، جس نے عشاقِ شاعری کے دلوں میں برسوں تک سرور اور کیف بکھیرے رکھا۔
عزیز بلگامی یکم مئی 1954 کو کرناٹک کے ضلع بلگام کے گاؤں کڑچی میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ادب و شاعری سے گہری وابستگی رکھنے والے عزیز بلگامی نہ صرف اعلیٰ پائے کے شاعر تھے بلکہ اپنی مترنم آواز اور برجستہ لہجے سے سامعین کو مسحور کردینے کا ہنر بھی رکھتے تھے۔ جہاں بھی اپنا کلام سناتے، سامعین جھوم اُٹھتے اور مشاعرہ دیر تک گونجتا رہتا۔
ابتدائی تعلیم جنیدیہ ہائی اسکول کڑچی اور پھر باشیبان ہائی اسکول بلگام میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے دوران انہوں نے آر ایل ایس انسٹی ٹیوٹ، بلگام سے پی یو سی اور بی ایس سی کا پہلا سال مکمل کیا، جبکہ باقی تعلیم کٹل کالج دھارواڑ سے حاصل کی۔
ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ اُس وقت آیا جب ان کی ملاقات معروف روحانی و ادبی شخصیت سید نورالدین قادری نور سے ہوئی، جو ان کے فکری و ادبی سفر میں سنگ میل ثابت ہوئی۔ اسی دور کے بعد رسمی تعلیم ترک کر کے روزگار کی تلاش شروع کی۔
نوکری کے ساتھ ادب سے جڑے رہنے کا جذبہ کبھی کم نہ ہوا۔ بینک کی ملازمت کے دوران بھی علم و تحقیق کا شوق برقرار رکھا اور 1995 میں میسور یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے جبکہ 1999 میں بنگلور یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر میم نون سعید کی نگرانی میں ان کا تحقیقی مقالہ ”عطاءالرحمٰن عطا ہبلوی — فن اور شخصیت“ کے عنوان سے مکمل ہوا، جو بعد میں ”زنجیرِ دست و پا“ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں بے حد مقبول ہوا۔
عزیز بلگامی نے اردو ادب کو ایسے لازوال اشعار عطا کیے جو احساس، درد اور رومانویت کے دلکش امتزاج سے مزین ہیں۔ ان کے انتقال سے ہندوستان اور بیرون ملک کے علمی و ادبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اہل ادب کا کہنا ہے کہ عزیز بلگامی کا تخلیقی سفر، آواز، شعار اور لہجہ آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہل خانہ و چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا کرے۔
آمین۔
