
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ایلچی مورگن اورتاگوس نے لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات میں لبنانی فوج کے اسلحے سے متعلق امور پر بات چیت کی۔
اس ملاقات کے دوران اورتاگوس نے دانستہ طور پر میڈیا کو دور رکھا اور تاثر دینے کی کوشش کی کہ لبنان میں اس کا کردار صرف فوجی و سیکیورٹی معاملات تک محدود ہے، اور جب تک امریکہ کا نیا سفیر بیروت نہیں پہنچتا، سیاسی امور اس کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہوں گے۔
اورتاگوس نے پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری سے بھی ملاقات کی، جس میں جنوبی لبنان کی تازہ صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
العہد نیوز ویب کے مطابق، اورتاگوس نے نبیہ بری کو دو تجاویز پیش کیں: ایک براہِ راست مذاکرات کے لیے اور دوسری بالواسطہ مذاکرات کے لیے۔
نبیہ بری نے جواب دیا کہ جنگ بندی کے نفاذ اور باہمی معاہدوں کی نگرانی کمیٹی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان اپنے وعدوں پر قائم ہے اور ضروری ہے کہ اسرائیل کو بھی ان معاہدوں کی پابندی پر مجبور کیا جائے۔
ذرائع نے اس ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں پھیلائی گئی دھمکیوں اور تناؤ کے باوجود یہ ملاقات تعمیری ماحول میں انجام پائی۔
