وزیراعظم اولی نے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر شام چھ بجے تمام سیاسی جماعتوں کی ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے۔ تاہم ملک میں بڑھتے تشدد اور عوامی بے چینی کو دیکھتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ میٹنگ بحران کو حل کرنے کے بجائے صرف وقتی سکون کا باعث بن سکتی ہے۔
کرفیو اور سخت سکیورٹی انتظامات کے باوجود عوامی غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا۔ دارالحکومت کے کئی علاقوں میں مسلسل پتھراؤ اور پولیس سے جھڑپیں جاری ہیں۔ کئی جگہوں پر فوج کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود احتجاج کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔
نیپال اس وقت ایک سنگین سیاسی اور سماجی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ جہاں ابتدا میں نوجوانوں کی آواز کو دبانے کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی گئی، وہی پابندی آگے چل کر حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنج میں بدل گئی۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وزیراعظم اولی اس بحران سے نکل پاتے ہیں یا نہیں، کیونکہ عوام کا غصہ اور وزراء کے استعفے حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔
