
حیدرآباد: شہر کے ڈاکٹر منموہن سنگھ فلائی اوور کے نیچے، آرام گھر جانے والی سڑک پر ایک منفرد اور خوشگوار منظر دیکھنے کو ملا۔ اطلاع کے مطابق، ایک ہندو پنڈت اپنی موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ اچانک ان کی بائیک کا پٹرول ختم ہوگیا اور وہ سڑک کے کنارے پریشانی میں کھڑے رہ گئے۔
اسی دوران ایک مسلمان مولوی اپنی موٹر سائیکل پر وہاں سے گزر رہے تھے۔ صورتِ حال دیکھتے ہی انہوں نے فوراً رک کر مدد کی پیشکش کی۔ مولوی صاحب نے پنڈت کی موٹر سائیکل کو کھینچتے ہوئے قریبی پٹرول پمپ تک پہنچایا۔ یہ منظر وہاں سے گزرنے والے لوگوں نے بھی دیکھا اور کئی افراد نے اس واقعہ کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جو تیزی سے وائرل ہوگئیں۔
یہ ہے حیدرآباد پاشا!
جہاں ایک پنڈت کی موٹر سائیکل کو ایک مولوی اپنی سواری سے کھینچتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور یہاں نفرت کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ فلائی اوور کے نیچے، آرام گھر جانے والی سڑک پر یہ منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب ایک پنڈت کی بائیک کا پٹرول ختم ہوگیا… pic.twitter.com/7q006DZX2Z— Urdu Scribe (@urduscribe1) August 27, 2025
لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ حیدرآباد کی اس خاص شناخت کو ظاہر کرتا ہے جسے گنگا جمنی تہذیب کہا جاتا ہے۔جہاں مذہبی فرق سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس واقعہ نے یہ پیغام دیا کہ شہر میں نفرت کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ بھائی چارہ، محبت اور انسانیت ہی حیدرآباد کی اصل پہچان ہے۔
