الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ حال ہی میں دیکھا گیا ہے کچھ لوگ، جو انتخاب میں امیدوار بھی نہیں ہیں، سوشل میڈیا پر ان ریکارڈنگ کو غلط طریقے سے پیش کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ایسے معاملوں سے کوئی قانونی نتیجہ نہیں نکلتا، لیکن اس سے گمراہیاں پھیلتی ہیں۔ اس لیے اب ان فوٹیج کو صرف 45 دنوں تک ہی رکھا جائے گا۔ اگر کسی انتخابی حلقہ میں 45 دنوں کے اندر انتخابی نتائج کو عدالت میں چیلنج پیش نہیں کیا جاتا ہے تو وہ فوٹیج ضائع کر دیے جائیں گے۔
’جس سے جواب چاہیے تھا وہی ثبوت مٹا رہا، ظاہر ہے کہ میچ فکس ہے‘، الیکشن کمیشن پر راہل گاندھی پھر حملہ آور
